Quran and Science - Big Bang Theory - قرآن اورسائنس -بگ بین تھیوری

  قران اور سائنس

کائنات کی تخلیق

بگ بینگ(Big Bang Theory)

انسان شاید اس دنیا کی وہ سب سے متُ جسس مخلوق ہے، جو ہر وقت نہ صرف اپنے ماحول بلکہ اس وسیع کائنات کی ہر شے کو کھوجنے، اس کی حقیقت جاننے کی جستجو میں لگا رہتا ہے۔ یہی کھوج اسے آج چاند ستاروں اور کروڑوں نوری سالوں کے فاصلے پر واقع کہکشاؤں تک لے گئی ہے۔

کائنات کی تخلیق کے متعلق  قرآن پاک نے آج سے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیا تھا۔ ارشادِ باری تعالی ہے۔

أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ

’’اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا‘‘۔اس قرآنی آیت اور بگ بینگ کے درمیان حیرت انگیز مماثلت  پائی جاتی ہے۔ یہ معجزہ نہیں تو اورکیا ہے؟  کیسے ممکن ہے کہ ایک کتاب جو آج سے 1400سال پہلے عرب کے ریگستانوں میں ظاہر ہوئی، وہ اپنے اندر ایسی غیر معمولی سائنسی حقیقت لیے ہوئے ہو۔

بگ بینگ انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی 'بڑے دھماکے' کے ہیں۔ بگ بینگ دراصل وہ دھماکہ ہے جس سے ہماری یہ کائنات وجود میں آئی ہے۔ اس نظریے کے مطابق کائنات کے وجود میں آنے سے پہلے تمام مادہ ایک سوئی کے ہزارویں حصّے کے برابر نہایت خفیف جگہ میں قید تھا۔ سائنس کے مطابق اگر مادے   میں ، دنیا کے کسی بھی ذریعے سے حاصل کردہ توانائی سے زیادہ توانائی ہو تو کششِ ثقل یعنی گریویٹی چیزوں کو اپنی جانب کھینچنے کے بجائے ایک دوسرے سے دور دھکیلنے والی قوّت بن جاتی ہے۔

چنانچہ سائنس کے مطابق یہی بگ بینگ کا وہ نکتہء آغاز تھا، جب تمام مادہ ایک دھماکے جیسی صورتحال کے بعد انتہائی تیزی سے ایک دوسرے سے دور ہونے لگا اور خلاء میں پھیل گیا۔ اس وقت اس کی رفتار اس قدر زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ کائنات تیزی سے پھیلنے لگی۔ آج اس 'بگ بینگ'، یعنی ہماری کائنات کے نکتہءِ آغاز کو 13.8 ارب سال ہو چکے ہیں۔ یہ قرآن مجید کا معجزہ ہے کہ سائنس جس حقیقت تک آج پہنچی ہے، قرآن نے وہ سربستہ راز آج سےچودہ سو سال پہلے ہی آشکار کردیا تھا۔

Comments